پاکستان کی تہذیب و ثقافت اور کشور ناہید

    محمد حمید شاہد - ۱۷ اپریل، ۲۰۱۷ | Post your comment here Comments

    پاکستان کی تہذیب و ثقافت  اور کشور ناہید

    کشور ناہید (source: Dawn)

    فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ کلچر زندگی سے الگ کوئی چیز نہیں ہوتی ، یہ داخلی اقدار کا نام ہے اور ظاہر طور پر طریقِ زندگی کا بھی۔ اسلام آباد لٹریچر فیسٹول کے دوسرے روز ایک بھرپور سیشن میں ہم کشور ناہید کی نئی کتاب"پاکستان کی تہذیب و ثقافت" پر مکالمہ کرتے ہوئے زندگی کی ایسی ہی کروٹوں کو نشان زد کر رہے تھے جو ازاں بعد اقدار ہو جاتی ہیں ۔ اس نشست کے ماڈریٹر اشفاق سلیم مرزا تھے ، مسعود اشعر اور مجھے اس کتاب پر گفتگو کرنا تھی ۔ میں نے اپنی گفتگو کے آغاز ہی میں کہہ دیا کہ کشور ناہید کی پوری زندگی ایک ترقی پسند سماجی کارکن کی حیثیت سے گزری ہے اور اب جب کہ وہ خود پاکستانی ثقافت کا ایک مظہر ہو گئی ہیں ، انہوں نے پاکستانی ثقافت کے نمونوں کا اکاونٹ اس کتاب کی صورت میں مرتب کر دیا ہے ۔ اشفاق سلیم مرزا نے کہا یہ کتاب محض ایک نصابی کتاب نہیں ہماری ثقافت کا انسائیکلو پیڈیا ہے ۔  یہ الگ بات کہ تقریب سے پہلے ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد صدیقی کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ اسے نصابی کتاب کی صورت پڑھایا جانا چاہیے۔مسعود اشعر نے اس کتاب میں اختیار کیے گئے اسلوب کو سراہا اور بتایا کہ انہوں  نے مختلف عنوانات قائم کرکے زندگی کے ہر شعبے سے ثقافت کے باب میں ایسے ایسے گوشوں پربات کی ہے جن کی طرف بالعموم نگاہ نہیں جاتی رہی ہے ۔  کشور ناہید نےبتایا کہ جس سال وہ بلند شہر میں پیدا ہوئیں اسی سال قراداد پاکستان منظور ہوئی تھی  اور یہ بھی کہ انہوں نے اپنے بچپن کے زمانے میں"لے کے رہیں گے پاکستان،لے کے رہیں گے پاکستان"  کے نعرے لگانے والے جلوسں دیکھے بھی تھے ، اور شام  کے وقت دوسرے بچوں کے ساتھ گلی ڈنڈا کھیلتے کھیلتے ان  میں، اسی ڈنڈے کے ساتھ شریک ہو کر نعرے بھی لگائے تھے ۔ قیام پاکستان ، تقسیم کے زمانے میں آبادی کی نقل مکانی اور فسادات یہ سب ان کی ہڈبیتی ہے ۔ لہذا پاکستان کی ثقافتی تاریخ کے پہلے باب میں انہوں نے اس سیاسی تاریخ کی جھلکیاں دکھائی ہیں اور یہ بھی بتایا ہے کہ کیسے مہاجرین اپنے ساتھ لائی گئی اپنی ثقافت  کومقامی ثقافت کا حصہ بنا رہے تھے ۔

     پاکستانی ثقافت کی تشکیل میں ادیبوں اور شاعروں  کا حصہ بہت اہم ہے ان کی خدمات کو کشور ناہید نے الگ سے ایک باب بنا کریاد کیا ہے۔ اس باب میں  سجاد ظہیر، سبط حسن، حسن ناصرسب یاد کیے گئے ہیں اور فیض احمد فیض کے حُزن میں ڈوبی ہوئی نظم "صبح آزادی" بھی:

    یہ داغ داغ اجالا یہ سب گزیدہِ سحر
    وہ انتظار تھا جس کا،یہ وہ سحر تو نہیں 

    کشور ناہید نے اسی باب میں سعادت حسن منٹو کے افسانے"کھول دو" اور "ٹوبہ ٹیک سنگھ" کو یاد کیا اور قرۃ العین حیدر کے" ہاوسنگ سوسائٹی"، "سیتاہرن" اور قدرت اللہ شہاب کے"یاخدا" کو بھی  اور پھر اس باب میں افسانہ نگار ہوں یا شاعر اپنی نمایاں خصوصیات کے ساتھ متن کا حصہ بنتے چلے گئے ۔ بلوچی، سندھی، پنجابی ، پشتو اور دوسری قومی زبانوں کے ادیبوں کے پاکستانی ثقافت میں حصے کو زیر بحث لانے کے بعد "ہمارے فنون لطیفہ" کا الگ سے عنوان قائم کرکے نشان زد کیا کہ مصوری ہو یا مجسمہ سازی، کلاسیکی موسیقی ہو یا قوالی ، لوک فنکار ہوں یا فلموں میں کام کرنے والے ، یہ سب کیسے پاکستانی ثقافت کی روشن مثالیں ہو گئے ہیں ۔ تھیٹر ، ڈانس، لوک میلہ ، پتلی تماشا ،موت کا کنواں اور سرکس سے لے کر سیربین پر بارہ من کی دھوبن دکھانے والے سب مظاہر، اس باب کا حصہ ہوئے ہیں ۔کشور ناہید نے اس باب میں بتایا کہ قیام پاکستان کے وقت استاد شریف ریلوے کے ڈبوں پر نمبر لکھا کرتے تھے،یہ تو بہت میں ہوا تھا کہ انہوں نے پنجاب کے لینڈ اسکیپ اور یہاں کی مٹیاروں کو اپنے فن کا حصہ بنایا۔ مصوری اور خطاطی کا ذکر چل نکلا تو کشور ناہید نے استاد اللہ بخش، عبدالرحمٰن چغتائی، شاکر علی، علی امام ، شمزہ ، زبیدہ آغا، صادقین،گل جی، ظہور الاخلاق ، جمیل نقش،حنیف رامےسب کو ان کے کام کی نمایاں خصوصیات کے ساتھ یاد کیا ۔

    کلاسیکی موسیقی کے ذکر میں استاد بڑے غلام علی کانام آیا جو قیام پاکستان کے بعد ہندوستان چلے گئے تھے اور ملکہ روشن آرا بیگم کا بھی جو بہ قول کشور ناہید ہماری موسیقی کا سنگھار رہیں۔ استاد امانت علی خان، فتح علی خان،  سلامت علی ،نزاکت علی جیسے کلاسیکی موسیقی کو اعتبار بخشنے والے فن کاروں کا ذکر ہو چکا تو غزل گائیکلی میں کمال دکھانے والوں اس باب کا حصہ بنایا گیا ۔ فریدہ خانم، اقبال بانو،غلام علی، زاہدہ پروین ، سے بات چلی اور شاہدہ پروین، بلقیس خانم روبینہ بدر، ناہید اختر  سب کا ذکر ہوا۔  مہدی حسن کیسے مختلف ہو کر نمایاں ہوئے اس کا ذکر ہوا نور جہان کی اس شعبے میں فتوحات کا بھی۔ عابدہ پروین، نصرت فتح علی خان ، غلام فرید صابری، عزیز میاں قوال، عالم لوہار سے عطااللہ عیسی خیلوی تک کون فن کار ہے جو ذکر سے رہ گیا ہو۔ فلمی صنعت کا ذکر چھڑا تو کشور ناہید نے اس شعبے کے ان گلوکاروں اور فن کاروں  کی طرف توجہ دلائی جنہوں نے پاکستانی ثقافت کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔

    پاکستانی ثقافت کی اس تصویر میں کشور ناہید نے گوادر سے لے کر گلگت بلتسان تک سب علاقوں سے رنگ بھرے ہیں۔ کہیں داتا صاحب ، بہاءالدین ذکریا، شاہ رکن عالم کے مزاروں  کا ذکر ہو رہا ہے تو کہیں جہانگیر کے مقبرے کا۔  شاہی قلعے، شالامار باغ، کٹاس راج مندر، حیدر آباد کا پکا قلعہ، گوادر کا قلعہ، گلگت بلتستان کےشگر فورٹ اور خپلو فورٹ  سب کتاب کے متن کا حصہ ہو گئے ہیں۔ ٹیکسلامیں بدھ زمانے کے آثار اور نودرات کا میوزیم ہو یا بلوچستان میں واقع ہنگلاج ماتا کا مندر، حسن ابدال میں سکھوں کا مقدس مقام پنجہ صاحب ہو یا ننکانہ صاحب کے چھے گوردوارے یہ وہ ثقافتی رنگ ہیں جو پاکستانی ثقافت کی دھنک بنا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں عیدیں کیسے منائی جاتی ہیں، رمضان میں عبادت کا کیا منظر نامہ ہے ، شب برات، محرم، میلاد ایک ایک تہوار بھی اسی دھنک کا حصہ ہیں اورسندھی اجرک ٹوپی، پنجاب کی دھوتی پگڑی، چولستان کی عورتوں کا چولی گھاگھرا، تھر کی عورتوں کی چوڑیاں، مردان کی عورتوں کے سفید اور نیلے برقعے، بلوچستان کے مردوں کی بھاری پگڑی اور بھاری شلواریں بھی اسی ثقافتی متن کے اہم اجزاء۔ کتاب کی تقریب اجرا میں جب  کھیتوں میں کام کام کرنے والی عورتوں اور ونی، سوارا، بدل صلح، سنگ چٹی، جیسی مکروہ رسموں میں صلح کا سامان ہو جانے والی کم سن بچیوں کا ذکر ہو رہا تھا تو وہاں حاضرین میں موجود طاہرہ عبداللہ نے کہا ، کیا یہ ونی ہونا بھی ہماری روایت کا حصہ ہے ۔ مجھے اس مقام پر وضاحت کرنا پڑی کہ بعض اوقات بالادست طبقہ اپنے مفادات کے تحفظ اور لوگوں کی زندگیوں کو اپنے اختیار میں لانے کے لیے روایت کے نام پرونی اور کاروکاری جیسے قبیح ، مکروہ اور ظالمانہ طریقوں کو رواج دے لیتے ہیں ، جو بہ ظاہر روایت کی طرح نظر آتی ہیں ، لیکن وہ روایت کا منصب نہیں پاسکتیں ۔  ایسی نام نہاد روایات کو  ثقافت اس لیے نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے خلاف عوامی سطح پر نفرت موجود ہوتی ہے ۔ ثقافت ہمیشہ زمین سے اور لوگوں کے دلوں کے اندر سے پھوٹتی ہے اور اس میں جبر کا عنصر شامل نہیں ہوتا۔    

    کشور ناہید کی اس کتاب میں شہر شہر اور گائوں گائوں ریچھ اور بندر کا تماشا کرنے والے ہوں سانپ اور نیولے کی لڑائی دکھانے والے، درخت کے نیچے شیشہ لٹکا کر شیو کرنے والے ہوں ، یا سڑک کنارے بیٹھے دانت نکالنے والے اور ہاتھ میں تیل کی بوتلیں لیے مالش کرنے والے سب کا ذکر ہوا ہے۔ گلی ڈندا، پنج وٹی، کوکلا چھپاکی، کیڑی کاڑاسے پتنگ بازی ، کرکٹ اور قومی کھیل ہاکی تک سب  کا ذکر کتاب میں موجود ہے۔

    پاکستان کی تہذیب و ثقافت  اور کشور ناہید

    (دائیں سے بائیں) مسعود اشعر، کشور ناہید، اشفاق سلیم مرزا اور حمید شاہد(مصنف)

    کشور ناہید نے جن موضوعات پر الگ سے عنوانات قائم کرکے ثقافتی مظاہر کو نشان زد کیا ہے  ان میں تاریخی مقامات و مزارات، تھیٹر فلم ڈرامہ، پکوان، تہوار، کھیل ،لباس، ذرائع آمدورفت، ہماری خواتین، ہمارے مرد، بنیادی حقوق،نصابی اور معاشرتی حقوق، ہمارے نئے پرانے گھر، زبانیں، پھول، پھل، سبزیاں ،توانائی کے ذخائر، صوبائی تقسیم اور خطے میں پاکستان کی اہمیت، شامل ہیں ۔ ان موضوعات کو کشور ناہید نے اپنے انداز میں چھوتے ہوئے ، جہاں زندہ ثقافت کی روشن مثالیں سامنے رکھی ہیں وہیں وہ اس ثقافت کے گلے سڑے علاقوں کی بھی نشاندہی  بھی کرتی چلی گئی ہیں ۔

    کتاب رونمائی کی تقریب میں یہ سب پہلو زیر بحث آئے  ۔ کشور ناہید نے کہا ،یہ کتاب مجھے اس لیے لکھنا پڑی کہ ہمارے ہاں اپنے تہذیبی اور ثقافتی مظاہر پر فخر کرنے اورقومی واقعات کو یادداشت میں تازہ رکھنے کا چلن ختم ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر کسی ٹی وی چینل پر چلنے والے اس پروگرام کا ذکر کیا جس میں پارلیمنٹ کے ارکان سے ایک صحافی پوچھ رہا تھا کہ بتائیں 23 مارچ کو کیا ہوا تھا؟ اور وہ بتا نہیں پارہا تھا ۔ کشور ناہید نے دُکھ سے کہا اگر قومی نمائندوں کی یہ حالت ہے  تو عام آدمی کی حالت کیا ہوگی ، سب کو جاننا چاہیئے کہ ہماری قومی تاریخ کیا ہے اور پاکستان کی ثقافت کے کون سے ایسے مظاہر ہیں جو اسے دوسری ثقافتوں سے الگ اور ممتاز کرتے ہیں ۔



    You may also like: